اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، نجف اشرف کے ممتاز عالمِ دین اور امام جمعہ بغداد آیت اللہ سید یاسین موسوی نے 9 مرداد 1405 (16 صفر 1448ھ) کو نماز جمعہ کے خطبے میں کہا کہ عراق اور اس کے عوام کی عظمت کا ایک پہلو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں امام حسینؑ اور شعائرِ حسینی کی محبت رکھ دی ہے اور عراقی عوام کے اجتماعی شعور میں سید الشہداءؑ کے ساتھ گہرا تعلق قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ امام حسینؑ کی شہادت کے بعد سے آج تک تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ عراقی عوام نے امام حسینؑ کو ایک الٰہی اور تبدیلی کا ذریعہ بننے والے مشن کے طور پر قبول کیا اور زمین پر اللہ کے کلمے کی سربلندی کے لیے سیاسی، ثقافتی، عسکری، سکیورٹی اور اقتصادی میدانوں میں کردار ادا کیا ہے۔
آیت اللہ موسوی نے کہا کہ یہ منصوبہ دراصل اسلام اور تشیع ہی کا منصوبہ ہے؛ وہی حقیقت جسے اس تعبیر میں بیان کیا جاتا ہے کہ اسلام محمدیؐ الوجود اور حسینیؑ البقا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تاریخ میں مختلف حکمرانوں اور طاغوتی نظاموں نے عراقی عوام کی حسینی شناخت مٹانے کی کوشش کی، لیکن ایسی تمام کوششیں بالآخر انہی حکمرانوں اور نظاموں کے زوال کا باعث بنیں۔
زیارتِ اربعین؛ ظہور کی تمہید
آیت اللہ یاسین موسوی نے زیارتِ اربعین کے بارے میں کہا کہ اسے ایک معمولی یا محدود مذہبی اجتماع کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا بلکہ یہ ’’ایک الٰہی منصوبہ اور ہمارے مولا صاحب العصر و الزمان امام مہدیؑ کے ظہور کی تمہید‘‘ ہے۔
انہوں نے کہا کہ زیارتِ اربعین کے مفاہیم کو معمولی اور سادہ سمجھنا درست نہیں۔ یہ ایک عظیم عالمی مظہر ہے جس میں دنیا کے مختلف ممالک سے کروڑوں افراد شریک ہوتے ہیں اور متعدد ممالک کے لوگ سید الشہداء امام حسینؑ کی زیارت کے لیے عراق کا رخ کرتے ہیں۔
بغداد کے امام جمعہ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ اور اسرائیل زیارتِ اربعین کے عظیم اجتماع سے خوفزدہ ہیں اور اسے ناکام بنانے کے لیے ذرائع ابلاغ اور پروپیگنڈا مہمات کے ذریعے اس میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
اربعین کو ناکام بنانے کی کوششوں کا الزام
انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب پر رواں سال زیارتِ اربعین کو ناکام بنانے کی کوششوں کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ عراق پر دباؤ ڈالنا اور ملک کے جنوبی حصے میں جنگ کو پھیلانا، جہاں عراق اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے کروڑوں زائرین موجود ہیں، اربعین کو ناکام بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
آیت اللہ موسوی نے عراقی عوام سے اپیل کی کہ وہ اس مذہبی شعیرے سے وابستگی برقرار رکھیں اور امریکہ و اسرائیل کو اس معاملے میں مداخلت کا موقع نہ دیں۔
انہوں نے کہا کہ عراقی، ایرانی اور خلیجی ممالک کے عوام کو متحد رہنا چاہیے اور سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر خلیجی ممالک کی جانب سے ایران اور خطے کے عوام کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کی مبینہ سازشوں سے ہوشیار رہنا چاہیے۔
امریکی مطالبات کے سامنے نہ جھکیں، عراقی حکام کو انتباہ
آیت اللہ موسوی نے عراقی رہنماؤں اور حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے مطالبات کے سامنے تسلیم نہ ہوں۔ ان کے مطابق امریکہ عراق سے جو وعدے کر رہا ہے، واشنگٹن انہیں پورا نہیں کرے گا۔
انہوں نے عراقی وزیراعظم کے حالیہ دورہ امریکہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ امیدوں کے ساتھ واپس آئے اور سعودی عرب جانے اور وہاں معاہدے کرنے کا ارادہ رکھتے تھے، لیکن ان کے بقول سعودی عرب نے عراقیوں کے خلاف کارروائی، مسلح افواج پر حملے اور جنگ شروع کرکے اس کا جواب دیا۔
بغداد کے امام جمعہ نے خطبے کے اختتام پر قومی اتحاد اور سازشوں کے مقابلے میں ہوشیاری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عراق کو ایک مضبوط مسلح فوج کی ضرورت ہے جو ملک کی فضائی حدود اور سرزمین کے دفاع کی صلاحیت رکھتی ہو۔
انہوں نے امریکہ کی جانب سے مزاحمتی گروہوں اور الحشد الشعبی کو غیر مسلح کرنے کی کوششوں سے بھی خبردار کیا اور کہا کہ واشنگٹن اب بھی اس منصوبے پر عمل درآمد کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔
آپ کا تبصرہ